Saturday, 16 December 2023

16 December 1971 by Rouf Khan


، دسمبر 16 1971ء ۔ سقوطِ ڈھاکہ ؟ (پاکستان ٹوٹ گیا)


ایک پہلو مطالعہ پاکستان یا تاریخِ پاکستان کی رو سے : انڈیا نے مسلم ریاست پاکستان کا وجود دل سے تسلیم نہیں کیا۔ اس طور پہلے دن سے ھی پاکستان کے خلاف سازشیں شروع ہو گئیں۔ ہندو اساتذہ نے مشرقی پاکستان میں ذہن سازی شروع کردی۔ ملک میں 1970ء  انتخابات ہوئے۔ مجیب کو اکثریت ملی ۔ بھٹو اور یحیٰ نے مجیب کو اقتدار نہ دیا۔ مجیب الرحمان نے غداری کرکے بنگال میں شورش شروع کردی۔ ہندوستانی فوجوں نے حملہ کردیا۔ اور پاکستان ٹوٹ گیا ۔۔۔ اللہ اللہ خیر سلا ۔۔۔۔۔ 


دوسرا پہلو جو محنت کشوں کی تاریخ ھے اور جسے شعوری طور پر آج تک اوجھل رکھا گیا : برِصغیر میں برطانوی راج کے خلاف نفرت کے نتیجہ میں طبقاتی بغاوت پھوٹ پڑی۔ سارا برصغیر تحریک کی زد میں تھا۔ جس کے بہت سے واقعات ، جدوجہد اور قربانیوں میں سے ایک معتبر کردار بھگت سنگھ اور اس کے انقلابی ساتھیوں کا تھا۔ جنہوں نے برطانوی سامراج کے مکمل خاتمے اور سوشلسٹ انقلاب کیلئے پھانسی قبول کی۔ دوسری عالمی جنگ نے برطانوی سامراج کے پیروں تلے زمین نکال لی۔ 

جنگ میں دب جانے والی تحریکوں نے پھر زور پکڑا۔ 1946ء میں برِصغیر کی جاندار طبقاتی اور فوجی بغاوت ہوئی جسے جہازیوں کی بغاوت کہا جاتا ھے۔ جس میں بحری فوج کے ملازمین نے برطانوی جہازوں اور گاڑیوں کو ضبط کر کے ان پر سرخ پرچم لہرا دیئے۔ وہ تحریک انقلاب کا روپ نہ دھار سکی مگر برطانوی راج اور ان کے گماشتوں کو لرزا دیا۔ جس کی وجہ سے برِصغیر میں تعینات برطانوی نمائندے نے برطانوی راج کو ایک خط بھیجا اور لکھا کہ برطانیہ کی بھلائی اسی میں ھے کہ وہ جس قدر جلد ممکن ہو یا ایک سال کے اندر اندر ہندوستان کو خالی کردے ۔۔۔۔۔۔ 


بس پھر برباد ہوتے برطانوی سامراج ، نئے ابھرتے امریکی سامراج اور ان کی سہولتکاری کرتے ہوئے سوویت یونین راج نے ایک میز پہ بیٹھ کر دنیا کے نقشے پہ لکیریں کھینچنا شروع کردیں۔ انہی لکیروں سے برِصغیر کے زندہ وجود کو چیر کر پاکستان اور ہندوستان نامی ریاستوں کی تخلیق و تشکیل ہوئی۔ ہزاروں سالوں سے اکٹھے رہنے والوں نے لاکھوں کی تعداد میں ایک دوسرے کے گلے کاٹے۔ بے شمار عزتیں پامال ہوئیں ۔ اور کم و بیش ستائیس کروڑ انسان خانماں برباد ہو کر اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر ہجرت پر مجبور ہوئے ۔۔۔۔۔۔


پاکستان میں پہلی تجارت و بدعنوانی مہاجرت کے جذبات اور مہاجرین کی آبادکاری سے شروع ہوئی ۔ دوسری خباثت طے شدہ منصوبہ کے تحت مقامی جاگیرداروں کی جاگیروں اور سرمایہ داروں کی صنعتوں کا تحفظ شروع ہوا۔ جس نے اس طرف کی نشاندھی کی ، کوئی بات کی یا مطالبہ کیا وطنِ عزیز کا پہلا کافر و غدار ٹھہرا ۔ لوٹ مار کی ایسی افراتفری رھی کہ کسی کو نہ قانون پر عمل کرنے کا دھیان رہا نہ آئین بنانے کا ہوش ۔ بس کوئی حیلہ کارگر تھا تو وہ تھی تیغ بدست حکمرانی ۔۔۔۔۔ 


صوبہ سرحد (کے پی کے ) میں خان حکومت قتل ہوئی ۔ ریاست بلوچستان کی گردن مروڑ کر پاکستان میں شامل کیا گیا۔ پاکستان کی اکثریتی آبادی کے حصے مشرقی پاکستان کے شھہر ڈھاکہ میں ان کی امنگوں کے خلاف اقلیتی اردو زبان کو قومی زبان قرار دیا گیا۔ وہاں الیکشن ہوئے تو کم و بیش تین سو میں اڑھائی سو سے زیادہ سیٹیں جینتے والے بنگال کے جگتو فرنٹ کو محروم کر کے چند نشستوں والی مسلم لیگ کو مسلط کردیا گیا۔ اور پھر پاکستان میں آئے روز حکومتیں بدلنے کا ایسا شغل چل نکلا کہ نہرو نے بیان داغ دیا کہ " اتنا تو ھم نے ہندوستان میں دھوتیاں نہیں بدلیں جتنا پاکستان میں حکومتیں تبدیل ہوئیں"۔ پاکستان میں بار بار حکومتیں بدلنے والوں کو خیال آیا کہ کیوں نہ ایک بار مارشل لاء ھی لگا دیا جائے۔ ایک مارشل لاء کیا لگا سول و فوجی مارشل لاؤں کا ایک ایسا رواج چل نکلا جو کہ اب تک چل رہا ھے۔۔۔۔


 بنگال(مشرقی پاکستان) میں سولہ گورنروں کے ذریعے حکومت چلائی گئی۔ جن میں صرف ایک جنرل اعظم خان تھا جبکہ باقی سب مغربی پاکستانی۔ اور طرزِ حکمرانی ایسی کہ ایک گورنر سوار خان نے بنگال میں ظلم کی داستان سن کر کہا کہ "مجھے بندے گن کر نہیں دئیے گئے نہ مجھے بندوں کی پرواہ ھے"۔ اسی طرح ایک جنرل نیازی کو کہا گیا کہ یہاں ھماری عزتیں محفوظ نہیں ہیں تو اس نے جواب دیا "ارے بھائی یہ کیسے ممکن ہو کہ فوجی ڈیوٹی یہاں دیں اور زنا جہلم میں جا کے کریں"۔ ( حوالے کیلئے حمودالرحمان کمیشن رپورٹ ملاحظہ کریں ) ۔


یہ تھی آزادی کہ جسے فیض احمد فیض نے تار تار اجالا اور شب گذیدہ سحر کا نام دیا تھا۔ اور یہ رھی اندازِ حکمرانی ۔

مگر پھر بقول کامریڈ  لال خان "محنت کش طبقے کی ایک خاصیت یہ بھی ھے کہ وہ تمام تر ذلتوں، اذیتوں اور مایوسیوں میں بھی اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی سوچوں سے دستبردار نہیں ہوتا"۔  محنت کش طبقے کی یہی حسرت تھی جو مغربی و مشرقی پاکستان میں عوامی و طبقاتی سرکشی ، بغاوت اور تحریک پھوٹ پڑی۔ جگہ جگہ آوے آوے سوشلزم اور جیرھا رہاوے اوہو کھاوے کے نعرے لگنے لگے۔ 


یہاں مغربی پاکستان میں نعرے تھے اور عوامی راج کے ہلکے پھلکے واقعات مگر بنگالی حسبِ دستور و تاریخ پھر بہت آگے چلے گئے۔ جگہ جگہ محنت کشوں کی حکمرانوں کی سوویتیں بننا شروع ہوئیں۔ اور اس قدر جاندار کہ ان کے اثرات سرحد پار ہندوستان کے کلکتہ و مدراس میں  محسوس ہونے لگے ۔ مشرقی و مغربی پاکستان اور ہندوستان کے حکمران اور حکمران طبقہ طبقاتی تحریک کی طاقت اور سوشسٹ انقلاب کی چاپ سے خوفزدہ ہو گیا۔ نتیجۃً روائیتی سامراجی ہتھکنڈے کے ذریعہ تحریک اور انقلاب کو کچلنے کیلئے جنگ کا ناٹک کھیلا گیا۔ قومی و مذہبی جذبات کی دھول اڑائی گئی۔۔۔۔۔۔ 


اور جب مطلع صاف ہوا تو ایک بار پھر برِ صغیر میں ایک نیا ملک مشرقی پاکستان اُگ آیا ۔۔۔۔۔۔ جسے سقوطِ ڈھاکہ کا نام دیا گیا۔ حالانکہ ایک بار پھر برِ صغیر کے محنت کشوں کی حسرتوں ، خواہشوں اور امنگوں کو قتل کر کے سوشلسٹ انقلاب کے خواب کو خون میں نہلا دیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Friday, 15 December 2023

PTCL has acquired Telenor.

 PTCL has acquired a major network company, Telenor.

  Whereas PTCL itself has become a private company instead of a government company through the process of privatisation.  PTCL has made so much profit that today it has become a private company to buy.  If this same PTCL was officially working in Pakistan and earning profit and giving profit to Pakistan.  Not only PTCL but there are many companies and institutions in Pakistan which could have made so much profit which could have made a profit for the people of this country.  Chief among them is Pakistan Airlines, which is on the brink of privatization today.  There are many organizations working in Pakistan which talk about left politics and are also doing politics.  But at the forefront of opposition to privatization is the "class struggle" which not only opposes privatization outright but also calls for the nationalization of already private companies.  Similarly, the efforts to privatize the education system of Pakistan are also going on, which will prove to be very harmful for the people of Pakistan.

جون ایلیاء

 


ﮬﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺫﺍﺕ ﺍِﮎ ﺯﯾﺎﮞ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ

ﻣُﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﯿﺎ ﻣﻌﻠﻮﻡ

ﺟﺐ ﻣُﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺣﺴﺎﺱ

ﺗُﻢ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﯿﺎ ﻣﻌﻠﻮﻡ

ﮨﺮ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﮍ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ

ﮐﻮﻥ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻼﻝ ﺭﮐﮭﮯ

ﺷﮩﺮِ ﮨﺴﺘﯽ ﮐﺎ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ

ﮐﻮﻥ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﮯ

ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻣُﺠﮭﮑﻮ ﺁﺳﺮﺍ ﻧﮧ ﻣﻼ

ﻣﯿﮟ ﺑﮭﭩﮑﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ

ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﺸﻨﮕﯽ ﮐﺎ ﺩﺭﯾﺎ ﮬﮯ

ﮬﮯ ﻓﻘﻂ ﮔﺮﺩ ﺩﻝ ﮐﯽ ﻟﮩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ

ﻭﺻﻞ ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﺗﻮﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺗﻮ

ﮨﺠﺮ ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﮯ ﻣﻌﻨﯽ

ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺷﺘﮧ ﮨﯽ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ

ﺩﻝ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮰ ﮔِﻠﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﮯ ﻣﻌﻨﯽ

ﮨﺮ ﻧﻔﺲ ﮬﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﻔﺮ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ

ﻣُﺠﮭﮑﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺼﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﻮ

ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺏ ﺧُﻮﺩ ﭘﮧ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ

ﺗُﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﻮ

ﻣﯿﺮﮰ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﯽ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺩﺭ ﻭﺍ ﮨﻮﮞ

ﯾﻌﻨﯽ ۔ ۔ ﻣﯿﺮﮰ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﻮﮞ

- ﺟﻮﻥ ﺍﯾﻠﯿﺎ

Thursday, 14 December 2023

ساحر لدھیانوی

 


دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے

چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے


اے روح عصر جاگ کہاں سو رہی ہے تو

آواز دے رہے ہیں پیمبر صلیب سے


اس رینگتی حیات کا کب تک اٹھائیں بار

بیمار اب الجھنے لگے ہیں طبیب سے


ہر گام پر ہے مجمع عشاق منتظر

مقتل کی راہ ملتی ہے کوئے حبیب سے


اس طرح زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ

جیسے کوئی نباہ رہا ہو رقیب سے


ساحر لدھیانوی

ساحر لدھیانوی


 


میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والی 

تیرے خوابوں میں کہیں میرا گزر ہے کہ نہیں 


پوچھ کر اپنی نگاہوں سے بتا دے مجھ کو 

میری راتوں کے مقدر میں سحر ہے کہ نہیں 


چار دن کی یہ رفاقت جو رفاقت بھی نہیں 

عمر بھر کے لیے آزار ہوئی جاتی ہے 


زندگی یوں تو ہمیشہ سے پریشان سی تھی 

اب تو ہر سانس گراں بار ہوئی جاتی ہے 


میری اجڑی ہوئی نیندوں کے شبستانوں میں 

تو کسی خواب کے پیکر کی طرح آئی ہے 


کبھی اپنی سی کبھی غیر نظر آئی ہے 

کبھی اخلاص کی مورت کبھی ہرجائی ہے 


پیار پر بس تو نہیں ہے مرا لیکن پھر بھی 

تو بتا دے کہ تجھے پیار کروں یا نہ کروں 


تو نے خود اپنے تبسم سے جگایا ہے جنہیں 

ان تمناؤں کا اظہار کروں یا نہ کروں 


تو کسی اور کے دامن کی کلی ہے لیکن 

میری راتیں تری خوشبو سے بسی رہتی ہیں 


تو کہیں بھی ہو ترے پھول سے عارض کی قسم 

تیری پلکیں مری آنکھوں پہ جھکی رہتی ہیں 


تیرے ہاتھوں کی حرارت ترے سانسوں کی مہک 

تیرتی رہتی ہے احساس کی پہنائی میں 


ڈھونڈتی رہتی ہیں تخئیل کی بانہیں تجھ کو 

سرد راتوں کی سلگتی ہوئی تنہائی میں 


تیرا الطاف و کرم ایک حقیقت ہے مگر 

یہ حقیقت بھی حقیقت میں فسانہ ہی نہ ہو 


تیری مانوس نگاہوں کا یہ محتاط پیام 

دل کے خوں کرنے کا ایک اور بہانہ ہی نہ ہو 


کون جانے مرے امروز کا فردا کیا ہے 

قربتیں بڑھ کے پشیمان بھی ہو جاتی ہیں

 

دل کے دامن سے لپٹتی ہوئی رنگیں نظریں 

دیکھتے دیکھتے انجان بھی ہو جاتی ہیں 


میری درماندہ جوانی کی تمناؤں کے 

مضمحل خواب کی تعبیر بتا دے مجھ کو 


تیرے دامن میں گلستاں بھی ہیں ویرانے بھی

میرا حاصل میری تقدیر بتا دے مجھ کو


ساحر لدھیانوی

Tuesday, 12 December 2023

Mountains پہاڑوں کا عالمی دن

 


11 دسمبر کو ہر سال پہاڑوں کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے

اور اس دن کی مناسبت سے پہاڑوں کے متعلق چند بنیادی معلومات دنیا میں لاتعداد پہاڑی سلسلے ہے اور ان میں سب سے لمبا پہاڑی

The Andes


 سلسلہ The Andes جو کہ سات ہزار کلومیٹر کے ایریا میں پیھلا ہوا ہے یہ پہاڑی سلسلہ براعظم ساوتھ امریکہ میں واقع ہے اور یہ اتنا لمبا پہاڑی سلسلہ ہے کہ Peru, Chile, Argentina, Colombia, Ecuador, Bolivia, Venezuela تک پھیلا ہوا ہے اور اس پہاڑی سلسلے کی سب سے بلند پہاڑ Aconcagua ہے


Southern Great Escarpment

یہ اپنی لمبائی کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر لمبا پہاڑی سلسلہ ہے اس کی لمبائی پانچ ہزار کلو میٹر ہے اور یہ پہاڑی سلسلہ ساوتھ افریقہ میں واقع ہے اور اس کی سب سے بلند پہاڑی Mount Ntlenyana ہے


Rocky Mountains

یہ تیسرا پہاڑی سلسلہ ہے جو اور اس کی لمبائی 4,800 km ہے اور یہ نارتھ امریکہ میں واقع ہے اور پہاڑی سلسلے کی سب سے بلند چوٹی  Mount Elbert ہے


Transantarctic Mountains


یہ اپنی لمبائی کے لحاظ سے چوتھا بڑا پہاڑی سلسلہ ہے جس کی لمبائی 3,500 km ہے اور یہ پہاڑی سلسلہ براعظم انٹارکٹکا میں واقع ہے اور اس پہاڑی سلسلے کی سب سے بلند Mount Kirkpatrick ہے


Great Dividing Range

یہ پانچواں پہاڑی سلسلہ ہے جو کہ  3,500 کم پر پھیلا ہوا ہے اور یہ براعظم آسٹریلیا میں واقع ہے اور اس کی سب سے بلند چوٹی  Mount Kosciuszko ہے

Himalayas

یہ اپنی لمبائی کے لحاظ سے چھ نمبر پر آتا ہے جو کہ 2,600 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے یہ براعظم ایشیا میں واقع ہے اور یہ پانچ ممالک کے درمیان. پیھلا ہوا ہے جس میں

Pakistan India, Nepal, Bhutan, China (Tibet)

ہے اور اس کی سب سے بلند چوٹی دنیا کی بھی بلند ترین چوٹی اماونٹ ایورسٹ پائی جاتی ہے 

Ural Mountains

یہ آپنی لمبائی کے لحاظ سے ساتواں لمبا پہاڑی سلسلہ ہے جس کی لمبائی  2,500 km ہے اور یہ پہاڑی سلسلہ روس میں واقع ہے جس کی بلند ترین چوٹی  Research Range ہے

تحریر و تحقیق حسن ندیم

Monday, 11 December 2023

نظم، شاعر علی زریون

عشق کہتا جاتا ہے

نظم لکھتی جاتی ہے

اپنی جگ ہنسائی بھی

اِن کی پارسائی بھی

دوستوں کے نرغے بھی

دشمنوں کے حربے بھی

ان کہی زبانوں کے

بے بہا زمانوں کے

زخم سہتی جاتی ہے

نظم لکھتی جاتی ہے 


نظم لکھتی جاتی ہے

بھوک ، خوف، مزدوری

نیند کا اکیلا پن 

آدمی کی تیاری

عورتوں کی مجبوری

شاہراہ کی باتیں

جھونپڑی زدہ ذاتیں

بے نقاب کرتی ہے

شاعری نما گھاتیں

فیسٹولز کی یلغار

نقلیوں کی ہاہاکار

اور اداس آنکھوں سے

بَین کرتی جاتی ہے

نظم لکھتی جاتی ہے 


نظم لکھتی جاتی ہے

مل گئے ہیں درباری

بد قماش سرکاری

اور ہوس کے تھیٹر میں

عشق کی اداکاری

مسندِ محبت پر

مسخرے مسلّط ہیں

منبرِ صداقت پر

وسوسوں کا قبضہ ہے

دل کے اندرونے میں

رات بہتی جاتی ہے

نظم لکھتی جاتی ہے 


نظم لکھتی جاتی ہے

حکمران اور رانی

باغیوں کی حیرانی

شاعروں کے دن کوفی

مصلحوں کے دل زانی

کچھ سخن فروشوں کو

نظم سے شکایت ہے

نظم چپ نہیں رہتی

ان کو کون سمجھائے

نظم کی یہ بے خوفی

عشق سے روایت ہے

عشق استخارہ نئیں

عشق جو دوبارہ نئیں

نظم کی لکھاوٹ تو

عشق کی شباہت ہے

عشق کی شباہت ہی

شبد کی شہادت ہے

اور یہ شہادت ہی

نظم کی عبادت ہے

تم ! ہماری نظموں کو

کیسے روک سکتے ہو 

تم ! ہمارے سجدوں کو

کیسے ٹوک سکتے ہو

عشق کہتا جاتا ہے

نظم لکھتی جاتی ہے ! 

نظم لکھتی جاتی ہے !


इश्क़ कहता जाता है

नज़्म लिखती जाती है

अपनी जग हँसाई भी

इनकी पारसाई है

दोस्तों के नरगे भी

दुश्मनों के हरबे भी

अनकही ज़बानों के

बेबहा ज़मानों के

ज़ख्म सहती जाती है

नज़्म लिखती जाती है


नज़्म लिखती जाती है

भूक,ख़ौफ़, मज़दूरी

नींद का अकेलापन

आदमी की तैयारी

औरतों की मजबूरी

शाहराह की बातें

झोंपड़ी ज़दह ज़ातें

बे नक़ाब करती हैं

शायरी नुमा घातें

फेसटूल्ज़ की यलगार

नक़लीयों की हाहाकार

और उदास आंखों से

बैन करती जाती हैं

नज़्म लिखती जाती हैं


नज़्म लिखती जाती है

मिल गए हैं दरबारी

बदकुमाश सरकारी

और हवस के थिएटर में

इश्क़ की अदाकारी

मसन-दे-मोहब्बत पर

मसखरे मोसल्लत हैं

मिम्बरे सदाक़त पर

वसवसों का कब्ज़ा है

दिल के अन्दरूने में

रात बहती जाती है

नज़्म लिखती जाती है


नज़्म लिखती जाती है

हुक्मरान और रानी

बाग़ियों की हैरानी

शायरों के दिन कूफ़ी

मस्लेहों के दिल ज़ानी

कुछ सुख़न फरिश्तों के

नज़्म से शिकायत है

नज़्म चुप नहीं रहती

उनको कौन समझाए

नज़्म को ये बे खौफी

इश्क़ से रिवायत है

इश्क़ इस्तेखारा नहीं

इश्क़ जो दुबारा नहीं

नज़्म की लिखावट तो

इश्क़ की शबाहत है

इश्क़ की शबाहत ही

शब्द की शहादत है

और ये शहादत ही

नज़्म की इबादत है

तुम! हमारी नज़्मों को

कैसे रोक सकते हो

तुम! हमारे सजदों को

कैसे टोक सकते हो

इश्क़ कहता जाता है!

नज़्म लिखती जाती है!

قصہ

 ﻗﺼﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺣﺠﺎﺏ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ

ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ، ﻭﮦ ﺟﻨﺎﺏ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ


ﻣﺪﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﺤﺒﺖ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﮯ

ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺎﺏ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ


ﻃﻮﻝ ﮐﻼﻡ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﯿﮯ ﺳﻮﺍﻝ

ﻭﮦ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ


ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻨﮓ ﻭ ﺧﺸﺖ ﮐﮯ ﻗﻠﻌﮯ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﮯ

ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺤﻞ ﺗﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ


ﺭﺧﺴﺎﺭ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﺧﻮﺏ ﮨﯿﮟ

ﺩﯾﺪﺍﺭ ﺍﺑﮭﯽ ﻧﻘﺎﺏ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ

فیض احمد فیض


فیض کی نظم "رنگ ھے دل کا مرے" ان کے مجموعہ کلام دست تہہ سنگ میں شامل ھے اور یہ نظم اگست 1963 میں ماسکو میں کہی گئی تھی۔


” رنگ ھے دل کا مرے “


تم نہ آئے تھے تو 

ہر چیز وھی تھی کہ جو ھے

آسماں حدِّ نظر

راہ گزر , راہ گزر

شیشہ مَۓ شیشہ مۓ

اور اب شیشہ مَۓ 

راہ گزر، رنگِ فلک

رنگ ھے دل کا مرے 

’’خون جگر ھونے تک‘‘

چمپئی رنگ کبھی 

راحتِ دیدار کا رنگ

سرمئی رنگ کہ ھے 

ساعتِ بیزار کا رنگ

زرد پتّوں کا 

خس وخار کا رنگ

سُرخ پُھولوں کا 

دھکتے ھُوئے گلزار کا رنگ

زھر کا رنگ ، لہو رنگ 

شبِ تار کا رنگ

آسماں ، راہ گزر،شیشہ مَۓ

کوئی بھیگا ھُوا دامن 

کوئی دُکھتی ھُوئی رگ

کوئی ھر لخطہ بدلتا ھُوا آئینہ ھے

اب جو آئے ھو تو ٹھہرو 

کہ کوئی رنگ 

کوئی رُت ،کوئی شے

ایک جگہ پر ٹھہرے

پھر سے اک بار ھر اک چیز 

وھی ھو کہ جو ھے

آسماں حدِّ نظر ، راہ گزر راہ گزر

شیشہ مَۓ شیشہ مۓ


فیض احمد فیض

16 December 1971 by Rouf Khan

، دسمبر 16 1971ء ۔ سقوطِ ڈھاکہ ؟ (پاکستان ٹوٹ گیا) ایک پہلو مطالعہ پاکستان یا تاریخِ پاکستان کی رو سے : انڈیا نے مسلم ریاست پاکستان کا وجود ...