Monday, 11 December 2023

فیض احمد فیض


فیض کی نظم "رنگ ھے دل کا مرے" ان کے مجموعہ کلام دست تہہ سنگ میں شامل ھے اور یہ نظم اگست 1963 میں ماسکو میں کہی گئی تھی۔


” رنگ ھے دل کا مرے “


تم نہ آئے تھے تو 

ہر چیز وھی تھی کہ جو ھے

آسماں حدِّ نظر

راہ گزر , راہ گزر

شیشہ مَۓ شیشہ مۓ

اور اب شیشہ مَۓ 

راہ گزر، رنگِ فلک

رنگ ھے دل کا مرے 

’’خون جگر ھونے تک‘‘

چمپئی رنگ کبھی 

راحتِ دیدار کا رنگ

سرمئی رنگ کہ ھے 

ساعتِ بیزار کا رنگ

زرد پتّوں کا 

خس وخار کا رنگ

سُرخ پُھولوں کا 

دھکتے ھُوئے گلزار کا رنگ

زھر کا رنگ ، لہو رنگ 

شبِ تار کا رنگ

آسماں ، راہ گزر،شیشہ مَۓ

کوئی بھیگا ھُوا دامن 

کوئی دُکھتی ھُوئی رگ

کوئی ھر لخطہ بدلتا ھُوا آئینہ ھے

اب جو آئے ھو تو ٹھہرو 

کہ کوئی رنگ 

کوئی رُت ،کوئی شے

ایک جگہ پر ٹھہرے

پھر سے اک بار ھر اک چیز 

وھی ھو کہ جو ھے

آسماں حدِّ نظر ، راہ گزر راہ گزر

شیشہ مَۓ شیشہ مۓ


فیض احمد فیض

No comments:

Post a Comment

16 December 1971 by Rouf Khan

، دسمبر 16 1971ء ۔ سقوطِ ڈھاکہ ؟ (پاکستان ٹوٹ گیا) ایک پہلو مطالعہ پاکستان یا تاریخِ پاکستان کی رو سے : انڈیا نے مسلم ریاست پاکستان کا وجود ...