ﻗﺼﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺣﺠﺎﺏ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ
ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ، ﻭﮦ ﺟﻨﺎﺏ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ
ﻣﺪﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﺤﺒﺖ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺎﺏ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ
ﻃﻮﻝ ﮐﻼﻡ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﯿﮯ ﺳﻮﺍﻝ
ﻭﮦ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻨﮓ ﻭ ﺧﺸﺖ ﮐﮯ ﻗﻠﻌﮯ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﮯ
ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺤﻞ ﺗﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ
ﺭﺧﺴﺎﺭ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﺧﻮﺏ ﮨﯿﮟ
ﺩﯾﺪﺍﺭ ﺍﺑﮭﯽ ﻧﻘﺎﺏ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ
Monday, 11 December 2023
قصہ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
16 December 1971 by Rouf Khan
، دسمبر 16 1971ء ۔ سقوطِ ڈھاکہ ؟ (پاکستان ٹوٹ گیا) ایک پہلو مطالعہ پاکستان یا تاریخِ پاکستان کی رو سے : انڈیا نے مسلم ریاست پاکستان کا وجود ...
-
عشق کہتا جاتا ہے نظم لکھتی جاتی ہے اپنی جگ ہنسائی بھی اِن کی پارسائی بھی دوستوں کے نرغے بھی دشمنوں کے حربے بھی ان کہی زبانوں کے بے بہا زمانو...
-
11 دسمبر کو ہر سال پہاڑوں کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس دن کی مناسبت سے پہاڑوں کے متعلق چند بنیادی معلومات دنیا میں لاتعداد پہ...
-
دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے اے روح عصر جاگ کہاں سو رہی ہے تو آواز دے رہے ہیں پیمبر صلیب سے اس رینگتی...
No comments:
Post a Comment