، دسمبر 16 1971ء ۔ سقوطِ ڈھاکہ ؟ (پاکستان ٹوٹ گیا)
ایک پہلو مطالعہ پاکستان یا تاریخِ پاکستان کی رو سے : انڈیا نے مسلم ریاست پاکستان کا وجود دل سے تسلیم نہیں کیا۔ اس طور پہلے دن سے ھی پاکستان کے خلاف سازشیں شروع ہو گئیں۔ ہندو اساتذہ نے مشرقی پاکستان میں ذہن سازی شروع کردی۔ ملک میں 1970ء انتخابات ہوئے۔ مجیب کو اکثریت ملی ۔ بھٹو اور یحیٰ نے مجیب کو اقتدار نہ دیا۔ مجیب الرحمان نے غداری کرکے بنگال میں شورش شروع کردی۔ ہندوستانی فوجوں نے حملہ کردیا۔ اور پاکستان ٹوٹ گیا ۔۔۔ اللہ اللہ خیر سلا ۔۔۔۔۔
دوسرا پہلو جو محنت کشوں کی تاریخ ھے اور جسے شعوری طور پر آج تک اوجھل رکھا گیا : برِصغیر میں برطانوی راج کے خلاف نفرت کے نتیجہ میں طبقاتی بغاوت پھوٹ پڑی۔ سارا برصغیر تحریک کی زد میں تھا۔ جس کے بہت سے واقعات ، جدوجہد اور قربانیوں میں سے ایک معتبر کردار بھگت سنگھ اور اس کے انقلابی ساتھیوں کا تھا۔ جنہوں نے برطانوی سامراج کے مکمل خاتمے اور سوشلسٹ انقلاب کیلئے پھانسی قبول کی۔ دوسری عالمی جنگ نے برطانوی سامراج کے پیروں تلے زمین نکال لی۔
جنگ میں دب جانے والی تحریکوں نے پھر زور پکڑا۔ 1946ء میں برِصغیر کی جاندار طبقاتی اور فوجی بغاوت ہوئی جسے جہازیوں کی بغاوت کہا جاتا ھے۔ جس میں بحری فوج کے ملازمین نے برطانوی جہازوں اور گاڑیوں کو ضبط کر کے ان پر سرخ پرچم لہرا دیئے۔ وہ تحریک انقلاب کا روپ نہ دھار سکی مگر برطانوی راج اور ان کے گماشتوں کو لرزا دیا۔ جس کی وجہ سے برِصغیر میں تعینات برطانوی نمائندے نے برطانوی راج کو ایک خط بھیجا اور لکھا کہ برطانیہ کی بھلائی اسی میں ھے کہ وہ جس قدر جلد ممکن ہو یا ایک سال کے اندر اندر ہندوستان کو خالی کردے ۔۔۔۔۔۔
بس پھر برباد ہوتے برطانوی سامراج ، نئے ابھرتے امریکی سامراج اور ان کی سہولتکاری کرتے ہوئے سوویت یونین راج نے ایک میز پہ بیٹھ کر دنیا کے نقشے پہ لکیریں کھینچنا شروع کردیں۔ انہی لکیروں سے برِصغیر کے زندہ وجود کو چیر کر پاکستان اور ہندوستان نامی ریاستوں کی تخلیق و تشکیل ہوئی۔ ہزاروں سالوں سے اکٹھے رہنے والوں نے لاکھوں کی تعداد میں ایک دوسرے کے گلے کاٹے۔ بے شمار عزتیں پامال ہوئیں ۔ اور کم و بیش ستائیس کروڑ انسان خانماں برباد ہو کر اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر ہجرت پر مجبور ہوئے ۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں پہلی تجارت و بدعنوانی مہاجرت کے جذبات اور مہاجرین کی آبادکاری سے شروع ہوئی ۔ دوسری خباثت طے شدہ منصوبہ کے تحت مقامی جاگیرداروں کی جاگیروں اور سرمایہ داروں کی صنعتوں کا تحفظ شروع ہوا۔ جس نے اس طرف کی نشاندھی کی ، کوئی بات کی یا مطالبہ کیا وطنِ عزیز کا پہلا کافر و غدار ٹھہرا ۔ لوٹ مار کی ایسی افراتفری رھی کہ کسی کو نہ قانون پر عمل کرنے کا دھیان رہا نہ آئین بنانے کا ہوش ۔ بس کوئی حیلہ کارگر تھا تو وہ تھی تیغ بدست حکمرانی ۔۔۔۔۔
صوبہ سرحد (کے پی کے ) میں خان حکومت قتل ہوئی ۔ ریاست بلوچستان کی گردن مروڑ کر پاکستان میں شامل کیا گیا۔ پاکستان کی اکثریتی آبادی کے حصے مشرقی پاکستان کے شھہر ڈھاکہ میں ان کی امنگوں کے خلاف اقلیتی اردو زبان کو قومی زبان قرار دیا گیا۔ وہاں الیکشن ہوئے تو کم و بیش تین سو میں اڑھائی سو سے زیادہ سیٹیں جینتے والے بنگال کے جگتو فرنٹ کو محروم کر کے چند نشستوں والی مسلم لیگ کو مسلط کردیا گیا۔ اور پھر پاکستان میں آئے روز حکومتیں بدلنے کا ایسا شغل چل نکلا کہ نہرو نے بیان داغ دیا کہ " اتنا تو ھم نے ہندوستان میں دھوتیاں نہیں بدلیں جتنا پاکستان میں حکومتیں تبدیل ہوئیں"۔ پاکستان میں بار بار حکومتیں بدلنے والوں کو خیال آیا کہ کیوں نہ ایک بار مارشل لاء ھی لگا دیا جائے۔ ایک مارشل لاء کیا لگا سول و فوجی مارشل لاؤں کا ایک ایسا رواج چل نکلا جو کہ اب تک چل رہا ھے۔۔۔۔
بنگال(مشرقی پاکستان) میں سولہ گورنروں کے ذریعے حکومت چلائی گئی۔ جن میں صرف ایک جنرل اعظم خان تھا جبکہ باقی سب مغربی پاکستانی۔ اور طرزِ حکمرانی ایسی کہ ایک گورنر سوار خان نے بنگال میں ظلم کی داستان سن کر کہا کہ "مجھے بندے گن کر نہیں دئیے گئے نہ مجھے بندوں کی پرواہ ھے"۔ اسی طرح ایک جنرل نیازی کو کہا گیا کہ یہاں ھماری عزتیں محفوظ نہیں ہیں تو اس نے جواب دیا "ارے بھائی یہ کیسے ممکن ہو کہ فوجی ڈیوٹی یہاں دیں اور زنا جہلم میں جا کے کریں"۔ ( حوالے کیلئے حمودالرحمان کمیشن رپورٹ ملاحظہ کریں ) ۔
یہ تھی آزادی کہ جسے فیض احمد فیض نے تار تار اجالا اور شب گذیدہ سحر کا نام دیا تھا۔ اور یہ رھی اندازِ حکمرانی ۔
مگر پھر بقول کامریڈ لال خان "محنت کش طبقے کی ایک خاصیت یہ بھی ھے کہ وہ تمام تر ذلتوں، اذیتوں اور مایوسیوں میں بھی اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی سوچوں سے دستبردار نہیں ہوتا"۔ محنت کش طبقے کی یہی حسرت تھی جو مغربی و مشرقی پاکستان میں عوامی و طبقاتی سرکشی ، بغاوت اور تحریک پھوٹ پڑی۔ جگہ جگہ آوے آوے سوشلزم اور جیرھا رہاوے اوہو کھاوے کے نعرے لگنے لگے۔
یہاں مغربی پاکستان میں نعرے تھے اور عوامی راج کے ہلکے پھلکے واقعات مگر بنگالی حسبِ دستور و تاریخ پھر بہت آگے چلے گئے۔ جگہ جگہ محنت کشوں کی حکمرانوں کی سوویتیں بننا شروع ہوئیں۔ اور اس قدر جاندار کہ ان کے اثرات سرحد پار ہندوستان کے کلکتہ و مدراس میں محسوس ہونے لگے ۔ مشرقی و مغربی پاکستان اور ہندوستان کے حکمران اور حکمران طبقہ طبقاتی تحریک کی طاقت اور سوشسٹ انقلاب کی چاپ سے خوفزدہ ہو گیا۔ نتیجۃً روائیتی سامراجی ہتھکنڈے کے ذریعہ تحریک اور انقلاب کو کچلنے کیلئے جنگ کا ناٹک کھیلا گیا۔ قومی و مذہبی جذبات کی دھول اڑائی گئی۔۔۔۔۔۔
اور جب مطلع صاف ہوا تو ایک بار پھر برِ صغیر میں ایک نیا ملک مشرقی پاکستان اُگ آیا ۔۔۔۔۔۔ جسے سقوطِ ڈھاکہ کا نام دیا گیا۔ حالانکہ ایک بار پھر برِ صغیر کے محنت کشوں کی حسرتوں ، خواہشوں اور امنگوں کو قتل کر کے سوشلسٹ انقلاب کے خواب کو خون میں نہلا دیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:
Post a Comment