Thursday, 14 December 2023

ساحر لدھیانوی


 


میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والی 

تیرے خوابوں میں کہیں میرا گزر ہے کہ نہیں 


پوچھ کر اپنی نگاہوں سے بتا دے مجھ کو 

میری راتوں کے مقدر میں سحر ہے کہ نہیں 


چار دن کی یہ رفاقت جو رفاقت بھی نہیں 

عمر بھر کے لیے آزار ہوئی جاتی ہے 


زندگی یوں تو ہمیشہ سے پریشان سی تھی 

اب تو ہر سانس گراں بار ہوئی جاتی ہے 


میری اجڑی ہوئی نیندوں کے شبستانوں میں 

تو کسی خواب کے پیکر کی طرح آئی ہے 


کبھی اپنی سی کبھی غیر نظر آئی ہے 

کبھی اخلاص کی مورت کبھی ہرجائی ہے 


پیار پر بس تو نہیں ہے مرا لیکن پھر بھی 

تو بتا دے کہ تجھے پیار کروں یا نہ کروں 


تو نے خود اپنے تبسم سے جگایا ہے جنہیں 

ان تمناؤں کا اظہار کروں یا نہ کروں 


تو کسی اور کے دامن کی کلی ہے لیکن 

میری راتیں تری خوشبو سے بسی رہتی ہیں 


تو کہیں بھی ہو ترے پھول سے عارض کی قسم 

تیری پلکیں مری آنکھوں پہ جھکی رہتی ہیں 


تیرے ہاتھوں کی حرارت ترے سانسوں کی مہک 

تیرتی رہتی ہے احساس کی پہنائی میں 


ڈھونڈتی رہتی ہیں تخئیل کی بانہیں تجھ کو 

سرد راتوں کی سلگتی ہوئی تنہائی میں 


تیرا الطاف و کرم ایک حقیقت ہے مگر 

یہ حقیقت بھی حقیقت میں فسانہ ہی نہ ہو 


تیری مانوس نگاہوں کا یہ محتاط پیام 

دل کے خوں کرنے کا ایک اور بہانہ ہی نہ ہو 


کون جانے مرے امروز کا فردا کیا ہے 

قربتیں بڑھ کے پشیمان بھی ہو جاتی ہیں

 

دل کے دامن سے لپٹتی ہوئی رنگیں نظریں 

دیکھتے دیکھتے انجان بھی ہو جاتی ہیں 


میری درماندہ جوانی کی تمناؤں کے 

مضمحل خواب کی تعبیر بتا دے مجھ کو 


تیرے دامن میں گلستاں بھی ہیں ویرانے بھی

میرا حاصل میری تقدیر بتا دے مجھ کو


ساحر لدھیانوی

No comments:

Post a Comment

16 December 1971 by Rouf Khan

، دسمبر 16 1971ء ۔ سقوطِ ڈھاکہ ؟ (پاکستان ٹوٹ گیا) ایک پہلو مطالعہ پاکستان یا تاریخِ پاکستان کی رو سے : انڈیا نے مسلم ریاست پاکستان کا وجود ...